نئی دہلی،8اگست(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) رام جنم بھومی معاملے میں شیعہ وقف بورڈ نے سپریم کورٹ میں حلف نامہ دائر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایودھیا میں متنازعہ جگہ پر رام مندر تعمیر کیا جانا چاہئے،جبکہ مسجد کی تعمیر پاس کے مسلم اکثریتی علاقے میں ہونی چاہئے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اُترپردیش شیعہ وقف بورڈ نے سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کرتے ہوئے بابری مسجد پر ہی حق ملکیت کا دعویٰ دائر کرتے ہوئے کہا ہے کہ بابری مسجد شیعہ مسجد تھی اور اس طرح شیعہ وقف بورڈ اس کی زمین کا مالک ہے اور اسے ہی مسئلے کے پرامن حل کے لئے مذاکرات کا حق حاصل ہے۔
شیعہ وقف بورڈ کی اس حلف نامہ پر ملت اسلامیہ ہند حیرت زدہ ہے اور اسے ذاتی اور سیاسی مفاد کے تحت داخل کیا گیا حلف نامہ قرار دیا جارہا ہے، جس کے بعد شیعہ کمیونٹی پر پھرایک بارعام مسلمانوں اورملت کے سوادِاعظم کے موقف کی خلاف ورزی کا الزام لگا ہے جس کے ساتھ ہی شیعہ کمیونٹی نےنئے ایشوکوجنم دے کرمخالفین کو ایک نیاموقع فراہم کر دیاہے۔ساتھ ہی اس کمیونٹی پراب ملک کے ایسے حالات میں فرقہ وارانہ اورمسلکی خلیج کوہوادینے کا الزام لگ گیا ہے ۔
یہ اب تک واضح نہیں ہوسکا ہے کہ یہ سب کس کے اشارے پرکیاگیاہے۔دراصل شیعہ وقف بورڈ متنازعہ جگہ پر مندر بنائے جانے کی بات کھلے عام کہتا رہا ہے۔منگل کو شیعہ وقف بورڈ کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر کئے گئے حلف نامے میں بورڈ کے چیئرمین وسیم رضوی نے کہا کہ متنازعہ جگہ پر مندر اور مسجد دونوں تعمیر کیا جاتا ہے، تو اس سے دونوں کمیونٹی میں جدوجہد کا امکان بنا رہے گا،اس سے گریز کیا جانا چاہئے۔اس کے لیے متنازعہ جگہ پر رام مندر تعمیر کی جائے اور متنازعہ جگہ سے تھوڑی دور مسلم اکثریتی علاقے میں مسجد کی تعمیر کی جائے۔
رضوی نے کہا کہ اس کے پاس 1946تک متنازعہ زمین کا قبضہ تھا اور شیعہ کے متولی ہوا کرتے تھے، لیکن برطانوی حکومت نے اس زمین کو سنی وقف بورڈ کو ٹرانسفر کر دیا تھا۔شیعہ وقف بورڈ نے کہا کہ وہ تنازعہ کے پرامن حل کے حق میں ہے۔بورڈ نے کہا کہ بابری مسجد بنوانے والا میر بکی بھی شیعہ تھا،اسی لیے اس پر ہمارا پہلا حق بنتا ہے۔غور طلب ہے کہ ایودھیا زمین تنازعہ پر سپریم کورٹ میں 11اگست سے 3ججوں کی بنچ روز سماعت کرے گی۔بورڈنے کہا کہ اگر مسجد بنانے کی متبادل جگہ ملے تو ہم متنازعہ جگہ پر دعویٰ چھوڑنے کو تیار ہیں۔شیعہ وقف بورڈالہ آبادہائی کورٹ میں بھی فریق تھا،وہاں ابتدائی دور میں اس نے جگہ پردعویٰ پیش کیاتھاتاہم بعد میں تفصیلی دلیل کے لیے ان کی طرف سے کوئی پیش نہیں ہوا۔ہائی کورٹ نے اپنے حکم میں ان چیزوں کو بھی جگہ دی ہے،اب ایک بار پھر شیعہ وقف بورڈ نے سپریم کورٹ میں حلف نامہ دائر کرکے اپنا موقف پیش کیا ہے۔وہیں سنی وقف بورڈ اور بابری مسجدایکشن کمیٹی کے اراکین ہی مسلمانوں کی جانب سے پیروکاری کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ شیعہ وقف بورڈ کی جانب سے یہ حلف نامہ ایسے وقت میں داخل کیا گیا ہے جب بابری مسجد ملکیت کیس پر سپریم کورٹ 11/ اگست سے یومیہ سماعت کرنے والا ہے۔ اس معاملہ کی سماعت جسٹس دیپک مشرا کی صدارت والی سہ رکنی بنچ کرے گی۔ اس میں جسٹس دیپک مشرا کے علاوہ جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس عبدالنظیر شامل ہیں جو 2010 میں الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف داخل پٹیشن پر سماعت کریں گے۔
مسجد شیعہ کی ہے یا سنی کی ہے، اس تعلق سے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ایڈوکیٹ ظفریاب جیلانی نے بتایا کہ مسجد شیعہ کی ہے یا سنی کی، اس کا فیصلہ 1945 میں ہی ہوگیا تھا، ان کے مطابق دو بڑے شیعہ عالم دین جو اس کے فریق رہے ہیں، مولانا کلب جواد اور مولانا سبط محمد نقوی اس ضمن میں اپنا بیان بھی درج کراچکے ہیں، اس لئے اب جو دعویٰ کیا جارہا ہے وہ بے بنیاد ہے اور اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ دونوں شیعہ علمائے دین یہ کہہ چکے ہیں کہ مسجد اللہ کی ہوتی ہے، وہ شیعہ اور سنی کی نہیں ہوتی۔